in Guides

دیوسائی میدان

Deosai Plains

سر زمین پاکستان دنیا کے چند ان خوبصورت ترین ملکوں میں سے ایک ہے جن کو قدرت نے بےپناہ فیاضی سے نوازاہے  اب وہ سرسبز جنگلات ہوں، سنگلاخ چٹانیں ہوں، بلندوبالاچٹیل  پہاڑ  ہوں ، ریگستان ہوں، قدرتی جھیلیں ہوں یا  برفیلی پہاڑیاں۔ خصوصی طور پر پاکستان کے شمالی علاقہ جات بے انتہا خوبصورتی سے مزین ہیں جو یہاں آنے والوں کے لیے جنت نظیر سے کسی طور کم نہیں ہیں۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا سے لوگ  ان  خوبصورت نظاروں  سے لطف اندوز ہونے کے لیے ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ دیوسائی کے آخری جگہ المالک مارپاس ہے جس کے ساتھ ہی وائلڈ لائف چیک پوسٹ موجود ہے۔ یہیں سے ایک ٹریک برجی لا ٹاپ تک جاتا ہے۔  برجی لا سے قراقرم کی 6 بلند ترین چوٹیاں براڈپیک، مشہ برم، گشیبرم1، گشیبرم2، گشیبرم4، اور  کےٹو کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔دنیا کے کسی بھی ایک مقام سے اتنی بلند ترین اور اتنی زیادہ چوٹیوں کا ایک جگہ سے نظارہ نہیں کیا جا سکتا۔

موسم / جغرافیہ

Deosai

دیوسائی کا میدان سال میں تقریبا ً  8 ماہ برف کی وجہ مکمل طور پر برف سے ڈھکا رہتا ہے اور اندازا ً یہاں 30 فٹ تک برف پڑتی ہے۔  دیو سائی دنیا کا  بلند تر ین میدان ہے ۔  دیوسائی کا کل رقبہ تقریبا ً 3000 مربع کلومیٹر ہے۔ دیوسائی سطح سمندر سے تقریبا ً 13500 فٹ بلند ہے۔ دیوسائی میں واقع بلند ترین چوٹی جس کی بلندی  تقریبا ً 16000 فٹ ہے۔

دیوسائی تک رسائی

Deosai Jeep Safari

دیوسائی تک رسائی کے دو راستے ہیں جن میں سے ایک اسکردو ہے جبکہ دوسرا استور کی طرف سے ہے۔  اسکردو سے صرف 35 کلومیٹر کے فاصلے پر دیوسائی کا پرفضا ء مقام واقع ہے۔ اسکردو جانے تک  زمینی کے ساتھ ساتھ فضائی سفر بھی ممکن ہے۔ پی آئی اے کی ایک پرواز روزانہ اسلام آباد سے اسکردو جاتی ہے لیکن موسمی حالات کی وجہ سے زیادہ  تر فضائی سفر بہت  موسم ٹھیک ہونے کے مرہو منت ہی طے کیا جاسکتا ہے۔  اسی وجہ سے زیادہ تر لوگ  زمینی سفر کو ترجیح دیتے ہیں۔  شاہراہ قراقرم  پر سفر  ایک بہت شاندار نظارہ ہوتا ہے جسے کرنے والوں مدتوں اس کے سحر سے نہیں نکل پاتے۔ پاکستان کے قیام سے پہلے تک گلگت سے سری نگر(مقبوضہ کشمیر) کے لیے ایک راستہ بھی استور سے جاتا تھا۔

معدوم ہوتے ہوئے نایاب بھورے ریچھ

Brown Bear At Deosai

دیوسائی  کو باقی دنیا سے ممتاز  کرنے کی ایک خاص وجہ یہاں کے بھورے ریچھ ہیں جو دیوسائی کے علاوہ پوری دنیا میں کہیں بھی پائے نہیں جاتے۔ دیوسائی کے یہ  بھورے   ریچھ  بڑی تیزی کے ساتھ معدومیت کا شکار ہیں۔ گئے وقتوں میں ان ریچھوں کی ایک بہت بڑی تعداد ان میدانوں میں پائی جاتی تھی لیکن غیر قانونی شکار کی وجہ سے اب ان کی تعداد محض چند سو رہ گئی ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ  معدوم ہوتے ہوئے ان نایاب بھورے ریچھوں کی حفاظت کے لیے فی الفور اقدام اٹھائے۔

دیوسائی میں پائے جانے والے جانور

deosai park

1993 میں حکومت پاکستان نے دیوسائی کو نیشنل پارک کا درجہ دیا گیا۔ دیوسائی میں پائے جانے والے قابل ذکر جانوروں میں بھورے ریچھ، مارموٹ، بھیڑیے، لومڑی، پہاڑی بکرے، برفانی چیتے اور اڑیال وغیرہ ہیں جبکہ پرندوں میں  مختلف نسلوں کے عقاب اور دیگر جنگلی پرندے قابل ذکر ہیں۔

Related Posts

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *