in Latest

ارض پاکستان اور دیومالائی کہانیاں

Mountain

دیومالائی کہانیاں اور انسے جڑے مقامات

بلاشبہ  قدرت نے پاکستان کو  بیش بہا خوبصورتی سے نوازا ہے جس کی مثال ڈھونڈے سے نہیں ملتی بس “ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی والی بات ہے۔ سحر انگیز وادیوں، بلند و بالا پہاڑوں بہتے جھرنوں، دریاؤں اور تاریخی طور پر پائے جانے والے مقامات کا کوئی ثانی نہیں ۔  ان میں سے بہت سے مقامات سے جڑی کچھ ایسی افسانوی کہانیاں بھی ہیں جو دیومالائی ہیں ۔ہو سکتا ہے ان دیومالائی کہانیوں کا حقیقت سے کوئی تعلق نہ ہو جس کا گمان غالب ہے لیکن  یہ کہانیاں سننے اور پڑھنے والوں کو اپنے سحر میں ضرور مبتلا کر دیتی ہیں۔

سیف الملوک  جھیل

Saif-ul-malook

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے علاقہ وادی کاغان میں واقعجھیل سیف الملوک کی سحرانگیز خوبصورتی نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سیاحوں کے لیے  ایک شاندار نظارہ ہے۔ اس خوبصورت جھیل سے ایک ایسی ہی افسانوی کہانی جڑی ہوئی ہے۔ مقامی روایات کے مطابق ایک شہزادے کو  ایک پری سے جھیل سیف الملوک پر محبت ہو گئی تھی۔ روایات کے مطابق آج بھی  مکمل چاند کی تاریخوں میں جھیل پر  پریاں نہانے آتے ہیں۔

آنسو جھیل

ansoo lake

آنسو کے قطرے کی مانند دکھائی جانے کی وجہ سے اس جھیل کا نام آنسو جھیل پڑا۔ یہ جھیل  نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی خوبصورت ترین جھیلوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس جھیل  تک رسائی کا ایک راستہ جھیل سیف الملوک  سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔ آنسو جھیل کے ساتھ بھی وہی دیومالائی کہانی کا کچھ حصہ منسوب ہے جو سیف الملوک سے منسوب ہے۔کہاوت کے مطابق آنسو جھیل  اس دکھ اور الم کا نتیجہ ہے جو دیو نےشہزادی سے محبت میں مبتلا  ہونے کے بعد بہائے جب دیو کو معلوم ہوا کہ وہ شہزادے سے محبت کرتی ہے۔

کٹاس راج کے مندر

Katas Raj Temple

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں واقع یہ ہندو مذہب کے  مقدس مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مند ر اپنے فن تعمیر کی وجہ سے بھی دیکھنے کے لیے ہیں۔ کٹاس راج مندر سارا سال سیاحوں کے لیے کھلے رہتے ہیں لیکن ہندو مذہب کے کچھ خاص تہواروں کے دوران ان میں سیاحوں کا داخلہ ممنوع قرار ہے اس لیے ان دنوں میں صرف ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی اور بڑی تعداد میں بھارت سے آئے زائرین ہی جا سکتے ہیں۔کٹاس راج مندر  کا یہ مندر ہندو مذہب کے دیوتا  “شیوا” سے منسوب ہے۔ حیران کن طور پر تالاب کا پانی ہرے رنگ کا ہے۔ کٹاس راج مندر کی دیومالائی کہانی اس تالاب سے منسوب ہے۔ روایات کے مطابق ہندو مذہب کے ایک بھگوان شیوا کی بیوی جس کا نام “ستی” تھا کے انتقال کے وقت شیوا کے آنسوؤں سے یہ تالاب وجود میں آیا۔ ہندو عقیدے کے مطابق تالاب کاپانی اپنے اندر نہ صرف بیاریوں سے شفاء رکھتا ہےبلکہ تالاب میںغسل کے بعد ان کے سارے گناہبھی دھل جاتے ہیں۔ 

منگھوپیراور  اس کے مگرمچھ

Manghopir

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے علاقہ میں منگھوپیر واقع ہے۔ حیران کن  طور پر یہاں قدرتی گرم چشمے موجود ہیں۔  مقامی لوگوں کے مطابق چشمے کے پانی میں حیران کن طور پر مختلف بیماریوں سے شفاء موجود ہے اور دوردراز کے علاقوں سے لوگوں یہاں شفاء کے مقصد کے لیے آتے ہیں۔ان چشموں کے علاوہ  جو چیز  منگھوپیر کو ممتاز کرتی ہے وہ یہاں کے دیوہیکل  مگرمچھ ہیں جو ان چشموں سے متصل تالاب میں  دھوپ سینکتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔لوگ ان کے پاس جا کر ان کو خوراک ڈالتے ہیں مگر حیران کن طور پر ان مگرمچھوں نے کبھی کسی کو نقصان نہیں پہنچایا۔ ان مگر مچھوں سے  کچھ کہانیاں منسوب ہیں جن میں سے ایک کے مطابق یہاں منگھو نام کے ایک بزرگ یہ پیر رہا کرتے تھے اور روایات کے مطابق یہ مگر مچھ ان کے سر کی جوئیں ہیں۔  جوؤں سے تنگ آ کر ایک دن اس بزرگ نے اپنا پاؤں زور سے زمین پر مارا جس سے ان کی جوئیں گر گئیں اور مگرمچھوں کی شکل اختیار کر گئیں۔یہاں “مگر مان” نامی ایک تہوار جو ان مگرمچھوں سے منسوب  ہے بھی منایا جاتا ہے۔

نوری جام تماچی

Noori jam tamachi

سندھ کی ایک ایسی رومانویداستان جس کے مرکزی کردار شہزادہ جام تماچی اور ایکنوری نامی ایک مچھیرن ہے۔  مقامی روایات کے مطابقکینجھر جھیل کے آس پاس رہائش پزیر ماہی گیروں کے میں سے ایک کے گھر ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کی خوبصورتی کی وجہ سے اس کا نام “نوری” رکھا گیا۔ شہزادہ جام تماچی کینجھر جھیل میں سیر کے دوران نوری کی زلفوں کا اسیر ہوگیا اور واپس اپنے محل میں پہنچ کر اس نے اپنی ذات پات اور شان و شوکت سے بے نیاز ہو کر نوری کے گھر والوں سے نوری کےرشتے کی درخواست کر دی جو کہ فی الفور قبول کر لی گئی۔نوری کو اس کی وفات کے بعد کینجھر جھیل کے وسط میں دفن کیا گیا۔  آج بھی لوگ دور دور سےاس لازوال عشقیہ داستان کی یادگار دیکھنے کے لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔

Related Posts

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *