in Latest

سانحہ کرائسٹ چرچ – اور اب بھی مُسلماں ہی دہشتگرد؟

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انسان اپنی خُد ساختہ سوچ کو روئیے میں ڈھال کر عملی طور پر کچھ کرتا ہے تو اس کے مختلف نتائج سامنے آتے ہیں. یہ نتائج بعض اوقات حادثات اور پھر حادثات سے المیہ بن کر اپنے اثرات مرتب کرتے ہیں اور انہی حادثات اور المیوں سے اِنسان اور اِنسانیت کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں. یہ ہی وہ پہلو ہوتے ہیں جو اِنسانی زندگی پہ براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں.
آجکل دُنیا بھر میں مُسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے وہ بھی اِنسانیت کے مر جانے کی ایک واضح دلیل ہے. اِس بارے میں بہت کچھ لکھا اور بولا جا چکا ہے لیکن پھر بھی ہر روز ایک نیا حادثہ ایک نیا المیہ ہمارا منتظر ہوتا ہے.
سوچنے کی بات یہ ہے کہ دُنیا بھر میں صرف مُسلمان ہی کیوں مارے جا رہے ہیں؟ وہ چاہے کشمیر ہو، عراق، مِصر، شام یا فلسطین.. حتیٰ کہ بھارت جو خُد کو ایک سیکولر اِسٹیٹ کہلاتا ہے وہاں بھی مسلمان سُکون کا سانس نہیں لے سکتے جِنہیں نا تو حقِ اظہارِ رائے ہے اور نا ہی اپنے مزہبی اِطوار اپنی مرضی سے منانے کا حق ہے. سوال یہ ہے کہ ہر جگہ مسلمان ہی کیوں؟
دُنیا میں بہت سے مذاہب ہیں تو پھر مسلمان ہی کیوں اِن حادثات یا دہشتگردی کا نِشانہ بن رہے ہیں خواہ وہ سانحہ کرائسٹ چرچ ہو، سانحہ بابری مسجد ہو، بھارتی گُجرات میں مسلمانوں کا قتلِ عام ہو،  بھارت میں سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس، فلسطین میں اِسراعیل کی دہشت گردی ہو، یا ایسے کِتنے اور واقعات، نِشانہ صرف مسلمان ہی کیوں؟ اور پھر بھی دہشتگردی کا لیبل مسلمانوں پہ؟
کیا اِسکا یہ مطلب لیں کہ ساری دُنیا میں صرف مسلمانوں سے خوف لاحق ہے، اِسلام سے ڈر لگتا ہے کہ یہ تمام مذاہب پہ اثر انداز ہو جائے اور دُنیا کے کونے کونے میں اِسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو جائے؟
 مسلمان اسلام کے اصولوں سے ٹس سے مس ہونے والے نہیں اور مسلمانوں کا قتلِ عام کر ک یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اِسلام کو مِٹا دیں گے؟ لیکن یہ جانتے نہیں یہ وہ اِسلام ہے جِس کے لیے حضرت بلال نے اِنتہا کا ظلم وستم برداشت کیا. یہ بھول گئے شاید کربلا میں مسلمانوں نے سجدوں میں سر کٹوا کے شھادت کا رُتبہ حاصل کیا لیکن اِسلام کے اصولوں پر زرہ برابر بھی سمجھوتہ نہیں کیا.
اِسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے. اِس میں ظلم و زیادتی سے منع فرما کے محبت اور بھائی چارے کا درس دیا جاتا ہے اور ہر مسلمان اس پر مکمل یقین رکھتا ہے. پھر کیوں مسلمانوں پہ دہشت گردی کا لیبل لگا دِیا گیا؟ اسکی وجہ دُنیا کے دوسرے مذاہب کی خود ساختہ سوچ ہے جو عمل میں ڈھل کر کرائسٹ چرچ نیوزیلینڈ جیسے انسانیت سے گِرے ہوئے حادثات کو المیہ بنا کر پیش کر رہی ہے.
15-03-2019 بروز جمعہ: نیوزیلینڈ کی دو مساجد میں گُھس کر نُماز پڑھتے مسلمانوں کو گولیاں مار کر شہید کر دِیا گیا، کیوں؟ پتا نہیں وجہ؟ پتہ نہیں.. بس یہ سوچ لیا گیا کہ جو مسلمان ہے وہ دہشتگرد ہے. اِن کا قتل کر کے پتہ نہیں کونسے ایسے خود ساختہ مسائل ہیں جو حل ہو جائیں گے. قتل بھی مسلمان ہو رہے ہیں اور دہشت گرد بھی مسلمان ہیں، پھر اُن کو کیا نام دِیا جائے جو ظُلم و بربریت کی آخری حد پر کھڑے خُد کو بہتر اور افضل کہہ رہے ہیں؟
شہید ہونے والے تمام افراد میں سے کِسی ایک بھی فرد کا نام تک پتا نہیں ہو گا بس مسجد میں موجود نُماز ادا کر رہے ہیں یعنی مُسلمان ہیں بس اِنکو مار دو بِنا کسی قصور کے. کبھی نہیں سُنا کہ کسی مندر میں ہِندو پوجا پاٹ میں مصروف اور کسی نے اِنکا قتل کر دیا. یا کوئی یہودی اپنی عبادت گاہ میں کسی کے ہاتھوں مارا گیا ہو.
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے “بے شک ملامت کے لائق ہیں وہ لوگ جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں. یہی لوگ ہیں جن کے لئے دردناک عذاب ہے” (الشوریٰ 42)
رسول ﷺ نے فرمایا “سُن لو جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، اگر وہ صحیح ہو تو پورا جِسم صحیح، اگر وہ خراب ہو جائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے. سُنو! وہ دِل ہے! “
تو ان کے دِل اِس قدر خراب ہو چکے ہیں کہ یہ انسانوں کو جانوروں کی طرح قتل کر رہے ہیں خاص طور پر وہ جو مسلمان ہیں کیونکہ اِنہوں نے اپنے دِلوں میں نفرت، غرور اور ظلم و زیادتی کو بھر لیا ہے.
جب مسلمان دوسرے مذاہب کا احترام کرتے ہیں، نا حق کسی کا قتل نہیں کر رہے، جب ارضِ پاک میں ہِندو، عیسائی، سِکھ، اور دوسرے مذاہب کے لوگ پُر امن اور خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں تو مسلمان کیوں نہیں خوشی سے زندہ رہ سکتے؟
کرائسٹ چرچ تو صرف ایک واقعہ ہے، اِس سے پہلے نجانے کیا کجھ ہو چُکا جو کئی بار لِکھا اور دوہرایا جا چُکا ہے.
خُدارا مُسلمانوں پر ظُلم و بربریت کو ختم کیا جائے اور ان کو بھی پُر امن اور خوشحال زِندگی گزارنے دی جائے. اپنی آنکھوں سے انا اور غرور کی پٹی ہٹا کر مسلمانوں کو بھی اسی آنکھ سے دیکھا جائے جس سے خود کو یا دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دیکھا جاتا ہے. اور یہ تبھی ممکن ہے جب خود ساختہ اور غلط سوچ کو چھوڑ کر اِنصاف اور برابری سے اور انسان اور انسانیت کی اس سطح پر سوچا جائے گا جس کا درس صرف اِسلام ہی نہیں دُنیا کا ہر مذہب دیتا ہے.
رائٹر: سعدیہ عامر

Related Posts

Add a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *